:پروفیسر اسٹیوارٹ کا پاکستانی قوم کے بارے میں تجزیہ
ناکارہ اور مفلوج قوم کی وجوہات
پروفیسر اسٹیوارٹ نے 1960 میں اپنی الوداعی تقریر میں پاکستانی قوم کو ناکارہ اور مفلوج قرار دیا۔ جانیں کہ ان کا کیا تجزیہ تھا اور کیسے پاکستانی معاشرتی رویے قوم کی ترقی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
:پروفیسر اسٹیوارٹ کا پاکستانی قوم کے بارے میں تجزیہ
پروفیسر اسٹیوارٹ کا انتقال 103 سال کی عمر میں کیلیفورنیا میں ہوا۔ یہ اور ان کی بیگم دونوں پچاس سال راولپنڈی میں پڑھاتے رہے۔ پروفیسر اسٹیوارٹ نے 1960 میں اپنی الوداعی تقریر میں پاکستانی قوم کے بارے میں ایک خوبصورت لیکن حقیقت پسندانہ تجزیہ پیش کیا۔
:پاکستانی قوم کی ناکارگی اور مفلوجی کی وجوہات
پروفیسر اسٹیوارٹ کا کہنا تھا، "پاکستانی ایک ناکارہ اور مفلوج قوم ہیں۔" ان کے مطابق، اس قوم کی ناکارگی کی بڑی وجہ مائیں ہیں جو اپنے بچوں کا ہر کام خود کرتی ہیں۔ یہ اپنے بچوں کے کپڑے دھوتی، استری کرتی، جوتے پالش کرتی، لنچ باکس تیار کرتی اور بچوں کے بستے بھی خود صاف کرتی ہیں۔ اس طرح بچے ناکارہ اور سست ہو جاتے ہیں اور اپنی ہر چھوٹی بڑی ضرورت کے لئے دوسروں پر انحصار کرنے لگتے ہیں۔
:بچوں کی نرسیں، بیویاں ملازمائیں
بچپن میں ماؤں کی خدمت کے بعد، جب بچے جوان ہوتے ہیں، تو ان کی بیویاں ان کی خدمت کرتی ہیں۔ یہ بھی ان کے کھانے بناتی، کپڑے دھوتی، اور ان کے واش رومز صاف کرتی ہیں۔ پروفیسر اسٹیوارٹ کے مطابق، "پاکستانیوں کی مائیں بچوں کی نرسیں، بیویاں ملازمائیں اور چھوٹے بہن بھائی غلام ہوتے ہیں۔"
:خود مختاری کی کمی
پروفیسر اسٹیوارٹ نے مزید کہا، "اگر تم لوگوں نے واقعی قوم بننا ہے تو پھر تمہیں اپنے بچوں کو شروع سے اپنا کام خود کرنے اور دوسروں بالخصوص والدین کی مدد کی عادت ڈالنا ہو گی تاکہ یہ بچے جوانی تک پہنچ کر خود مختار بھی ہو سکیں اور ذمے دار بھی۔"
:نتیجہ
پروفیسر اسٹیوارٹ کے الفاظ میں، "جو بچہ خود اٹھ کر پانی کا گلاس نہیں لے سکتا وہ کل قوم کی ذمے داری کیسے اٹھائے گا؟" ان کا تجزیہ آج بھی ہمارے لئے سبق آموز ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کو خود مختاری سکھانی چاہئے تاکہ وہ ایک مضبوط اور خود مختار قوم بن سکیں۔

