یہ ان دنوں کی بات ہے جب پچھلی صدی کے سب سے بڑے سائنس دان البرٹ آئن اسٹائن اپنی مشہورِ زمانہ تھیوری E=MC (Power)2سے متعلق لیکچر دینے مختلف کالجز اور یونیورسٹیز میں جایا کرتے تھے۔ ایسے ہی ایک دن ایک کالج کی طرف رواں دواں آئن اسٹائن سے ان کے ڈرائیور نے کہا۔
“سر آپ کا یہ لیکچر میں اتنی بار سن چکا ہوں کہ مجھے اب لفظ بہ لفظ زبانی یاد ہو گیا ہے۔ اب تو میں بھی لیکچر دے سکتا ہوں۔” “اچھا چلو ایسی بات ہے تو اب جس کالج کی جانب جا رہے ہیں وہ مجھے شکل سے نہیں پہچانتے وہاں تم آئن اسٹائن بن کر لیکچر دینا۔ آئن اسٹائن نے اپنے ڈرائیور کو اجازت دے دی اور اس کالج میں آئن اسٹائن کے ڈرائیور نے ایک بھرپور لیکچر دیا جس میں ایک بھی غلطی نہیں کی۔ لیکچر کے بعد جب وہ واپسی کے لیے روانہ ہونے لگے تو ایک پروفیسر نے ایک نہایت مشکل سوال داغ دیا اور اس سوال کا مقصد علم حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنے تئیں آئن اسٹائن کو ذلیل کرنا تھا۔ اس نے یہ سوال ڈرائیور کو آئن اسٹائن سمجھ کر ڈرائیور سے کیا۔ سوال سن کر ڈرائیور نے کہا اتنا آسان سوال۔ میں تو حیران ہوں آپ نے اتنا آسان سوال پوچھا ہی کیوں؟ یہ تو اتنا آسان سوال ہے کہ اس کا جواب تو میرا ڈرائیور بھی دے سکتا ہے۔ ساتھ ہی ڈرائیور نے آئن اسٹائن کو جواب دینے کا اشارہ کیا۔ آئن اسٹائن جو کہ ڈرائیور کے روپ میں تھا۔ اس نے پروفیسر کو مفصل جواب دیا۔ جس سے پروفیسر بہت زیادہ شرمندہ ہوا۔

