آج تو حد نی ہو گئی۔ دفتر پہنچا، پارکنگ کر کے جیسے ہی گاڑی سے باہر نکلا تو فورا
ہی آ کے میرے ساتھ چپک گئی۔ میں تو ایک دم سے بوکھلا گیا۔ یہ آج کہاں سے آ گئی؟ اور
سویرے سویرے ایسی حرکت؟ وہ بھی بغیر کسی الٹی میٹم کے؟ وہ بھی
بغیر کسی جان پہچان
کے؟ وہ بھی عین دفتری پارکنگ کے بیچوں بیچ؟ اور اگر کسی نے دیکھ لیا تو؟ :O
پہلے
تو یہ سوچ کے کہ کہیں زیادہ بگڑ نہ جائے میں نے صرف بری سی شکل بنا کے اس کو
سمجھانے کی کوشش کری کہ مجھے اس کی یہ حرکت پسند نی آئی لیکن اس پہ تو پتہ نی کون
سا بھوت سوار تھا۔ سمجھانے کے باوجود بار بار آ آ کے ساتھ لپٹتی جائے۔ ایک دو دفعہ
تو میں نے بازو ہلا ہلا کے بھی اس کو پرے کرنے اور خود سے دور رکھنے کی کوشش کری،
پر آج تو اس پہ ایسی مستی چڑھی وی تھی جیسے چار بوتل واڈکا چڑھا کے آئی وی ہو۔
سنبھالے نی سنبھل ری تھی۔ سمجھ نہ
آئے کروں تو کروں کیا۔ اس سے نمٹنے سے فرصت ملے
تو دماغ کچھ کام کرے بھی۔
ایک تو میں پریشان کہ ایسی حرکتیں کرتے وے کسی لوئر
سٹاف یا ملّو نے ہی دیکھ لیا تو ایک گھنٹے سے بھی پہلے خبر پورے ٹاور میں پھیل جانی
کہ ڈفر صبح سویرے پارکنگ میں کیا کرتا پایا گیا تھا۔ اور اوپر سے آج کل کے کتوں
بلوں کے موبائلوں میں بھی کیمرے، اگر کسی نے ویڈیو شیڈیو ہی بنا لی تو؟ بس اتنی سی
بات دماغ میں آنے کی دیر تھی، میرے دماغ میں لال لال ایمبولنسی بتیاں جلنا اور ٹن
ٹن فائربریگیڈی گھنٹیاں بجنا شروع ہو گئیں۔ کھوپڑی کی ون ون ٹو ٹو ایمرجنسی سروس نے
کام شروع کرا اور میں نے فیر آؤ دیکھا نہ تاؤ، بازو پہ لٹکا کوٹ اتارا اور پہن لیا،
ڈال لے اب جتنی جپھیاں ڈالنی
افففف، کیا بتاؤں تمہیں۔ یہ آج کل کی بے حیا ٹھنڈی
ہوائیں بھی نا۔ اللہ بچائے ان سے
