بہت حساس ہو ناں تم
بھلا سب کو سمجھتی ہو
بہت اشعار پڑھتی ہو
محبت کے وفاؤں کے
سبھی احساس رکھتی یو
بتانا چاہتی ہو تم
نبھانا چاہتی ہو تم
تمہاری بولتی آنکھیں
تمہارے من کی عکاسی
سبھی قصے سنا دیتی
تمہارے مکھ کی اداسی
مگر میں جانتا ہوں کے
تم اپنے من کی حالت کو
زباں تک لا نہ پاؤ گی
تمہیں نہ حرف
نہ ہی لفظ گری آتی ہے
میں کہ ماہر ہوں
ہر اک کاری گری آتی ہے
تیری آنکھوں کی اداؤں کو
تیرے جذبوں کو
اپنے لفظوں کا میں
پندار عطا کر دوں گا
یہ جو خواہش ہے تمہاری
تمہیں چاہا جائے
من کی تسکین ہے اس میں
کہ سراہا جائے
میں کے لفظوں کا کھلاڑی بھی
کہانی گر بھی
بہت آسان ہے مجھ کو
میں اس میں ماہر بھی
میں تجھ کو دیکھتا ہوں
دیکھتا رہ جاتا ہوں
ملو نہ تم تو تمہیں
کھوجتا رہ جاتا ہوں
نگاہ اٹھاؤ مجھے دیکھو
قیمتی کر دو
میرے جذبوں میں بھرو رنگ
آتشیں کر دو
تم سراپا ہو محبت
وفا کی مورت ہو
اتنی دلکش کہ
تخیل سے خوبصورت ہو
یہ تو وہ سب تھا
جو تم مانتی ہو
پر میرے من میں
کیا ہے جانتی ہو؟
میں کہ ساحر بھی ہوں
ماہر بھی ہوں لفاظی کا
جس کے چاہوں میں اسی
دل میں اتر سکتا ہوں
لبوں کا ذکر بنوں
ایسا اثر رکھتا ہوں
پر وفا میرے لئے
کوئی خاص بات نہیں
نہیں محب بھی میں
عشق مجھے راس نہیں
تو محبت کی ہے دیوی
میں ضرورت کا خدا
جو ہو سکے تو میری مان
میرے چھل میں نہ آ۔
