دنیا میں کچھ جملے بظاہر گستاخانہ یا تضحیک آمیز محسوس ہوتے ہیں، لیکن
اگر اُن کے پیچھے چھپی دانائی کو سمجھا جائے تو وہ زندگی کے اہم سبق سکھا دیتے ہیں۔
ایسا ہی ایک جملہ ہے:
"بچے ہوتے ہیں کھوتی کے بچے"
پہلی نظر میں یہ جملہ سخت اور بے ادب محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس جملے میں بچوں کی تربیت، معاشرتی رویوں، اور والدین و اساتذہ کی ذمہ داریوں پر گہرا تبصرہ موجود ہے۔
کھوتی کے بچے کا رویہ – سیدھا چلنے والا نہیں
کھوتی (گدھی) کا بچہ اگر کسی بھی سمت دوڑا دیا جائے، تو وہ بغیر سمجھے بوجھے اس طرف نکل جاتا ہے۔ اگر اُسے کسی اور کی چراگاہ یا کھیت کی طرف بھیج دیا جائے، تو وہ وہاں کی فصل کو روند ڈالے گا، برباد کر دے گا — کیونکہ اُسے یہ سمجھانے والا کوئی نہیں ہوتا کہ یہ اُس کا حق نہیں، اور یہ عمل نقصان دہ ہے۔
اس مثال کو جب انسانوں، خاص طور پر بچوں پر لاگو کریں، تو ہمیں نظر آتا ہے کہ:
اگر بچوں کو صحیح اور غلط کی پہچان نہ کروائی جائے، تو وہ بھی زندگی میں ویسے ہی بے سمجھی سے چل نکلتے ہیں، جیسا کہ کھوتی کا بچہ۔
آج کے دور کا المیہ – تربیت کا بحران
آجکل والدین اور اساتذہ دونوں اپنی بنیادی ذمہ داری سے دور ہو چکے ہیں۔
والدین یہ سمجھتے ہیں: ہم نے بچے کو مہنگے اسکول میں داخل کروا دیا، اب اسکول ہی اُسے "اچھا انسان" بنائے گا۔
اساتذہ یہ کہتے ہیں: ہمارا کام نصاب پڑھانا ہے، تربیت والدین کی ذمہ داری ہے۔
نتیجہ؟
بچے انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، اور اپنے اردگرد کے ماحول سے تربیت لے رہے ہیں۔ وہ جو کچھ دیکھتے ہیں، ویسا ہی اپنا لیتے ہیں — چاہے وہ چیز اچھی ہو یا بری۔
ان کے پاس نہ کوئی رہنما ہے، نہ سکھانے والا، نہ روکنے والا، اور نہ ہی کسی بات کو سمجھانے والا۔
تربیت کا متبادل نہیں ہوتا
یاد رکھیے، تعلیم ایک ہتھیار ہے — مگر تربیت وہ عقل ہے جو بتاتی ہے کہ اس ہتھیار کو کیسے اور کہاں استعمال کرنا ہے۔
اگر تربیت نہ ہو تو:
- تعلیم یافتہ چور پیدا ہوتے ہیں۔
- ڈگریوں والے مجرم بنتے ہیں۔
- اور مہذب نظر آنے والے اندر سے کھوکھلے ہوتے ہیں۔
حل کیا ہے؟
- والدین کی ذمے داری ہے کہ وہ بچوں کے دل و دماغ میں خیر و شر، سچ و جھوٹ، ادب و احترام کی بنیاد ڈالیں۔
- اساتذہ کی ذمے داری ہے کہ وہ بچوں کو صرف کتابی علم نہیں، بلکہ عملی زندگی کے اصول بھی سکھائیں۔
- سماج کی ذمے داری ہے کہ وہ بچوں کو ایسا ماحول دے جہاں وہ سیکھ سکیں کہ انسانیت کیا ہے۔
آخری بات
بچے ہوتے ہیں کھوتی کے بچے
سچ ہے اگر اُن کی تربیت نہ کی جائے
کیونکہ پھر وہ جو دیکھیں گے، وہی کریں گے — چاہے وہ غلط ہو یا نقصان دہ۔
انہیں نہ کوئی روکنے والا ہوگا، نہ سمجھانے والا۔
اس لیے، تربیت کو کبھی نظر انداز نہ کریں — یہ نسلوں کا مستقبل سنوار سکتی ہے۔

